علم قافیہ عملی طور پرعلمِ عروض ہی کا حصہ ہے اورعروض کی اکثر اردو کتب کے آخر میں ایک مختصر سا باب علمِ قافیہ پر ملتا ہے جس کو پڑھنے کے بعد تشنگی سی رہ جاتی ہے ۔ اکثر علمی اور ادبی حلقوں میں قافیے کے مسائل پر ہونے والی بحث سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس موضوع پر ایک مفصل مضمون کی ضرورت ہے کہ جو سہل زبان میں اصطلاحات اور اصولِ قوافی کو بیان کرے اور ان کے متنازع پہلوؤں پر روشنی ڈالے ۔ راقم کی اس تحریر کا بنیادی مقصد یہی ہے ۔ اس مضمون کے مخاطب اہلِ علم نہیں بلکہ وہ مبتدیان اور طالبانِ علم و ادب ہیں کہ جن کے ذہنوں میں علمِ قافیہ سے متعلق اشکال اور ابہامات موجود ہیں ۔ چنانچہ اس مضمون میں موضوعات کی ترتیب اور زبان و بیان کو بوجوہ ویسا ہی رکھا گیا ہے ۔ نیز جابجا مثالوں کا استعمال اور اہم نکات کا اعادہ بھی کیا گیا ہے تاکہ قواعدِ قافیہ کا پس منظر ذہن نشین ہوتا جائے ۔
عروض کا علم چونکہ عربوں کی دریافت یا ایجاد ہے ۔ اسلئےعروض اور قافیے کے تمام قواعد عربی زبان کے مطابق ہی بنائے گئے ۔ کئی صدیوں پہلے جب علمِ عروض عربوں سے اہلِ فارس کے ہاں آیا تو اس علم کی اصطلاحات تو یونہی برقرار رکھی گئیں لیکن قافیے کے قواعد میں فارسی زبان کی مناسبت سے کچھ تبدیلیاں کی گئیں ۔ اردو میں علمِ قافیہ اہلِ فارس سے درآمد ہوا۔ چنانچہ علمِ قافیہ کو اچھی طرح سمجھنے کیلئے عربی کے اسماء اور افعال کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات کا ہونا ضروری ہے کہ جن کا اطلاق اردو الفاظ پر کیا جاسکے ۔ عربی اور فارسی میں ہر لفظ کا ایک بنیادی مادہ ہوتا ہے جو چند حروف پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اس مادے یا مصدر میں کچھ اور حروف زیادہ کرکے نئے الفاظ بنالئے جاتے ہیں ۔ مادے یا مصدر کے حروف اصل یا اصلی کہلاتے ہیں جبکہ دیگر حروف کو زائد کہا جاتا ہے ۔ مثلا لفظ فقیر ، امیر اور اسیر میں یائے نسبتی کا اضافہ کرکے فقیری ، امیری اور اسیری کے الفاظ بنالئے گئے ہیں ۔ فقیر ، امیر اور اسیر کے تمام حروف اصلی ہیں ۔ جبکہ حرف " ی " حرفِ زائد کہلاتا ہے ۔ اسی طرح اردو میں مہربانی ، مہربانوں ، مہربانیاں وغیرہ میں اصل لفظ یا مصدر مہربان ہے اور اس کے علاوہ تمام حروف زائد ہیں ۔ اصطلاح میں مصدر یا اصل لفظ وہ چھوٹے سے چھوٹا کلمہ ہوتا ہے کہ جس میں سے کسی حرف کو حذف کرنےسے کلمہ بے معانی ہوجائے یا اس کے معنی تبدیل ہوجائیں ۔ حروف ِ اصلی اور حروف ِ زائد کو الگ الگ کرنے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ لفظ کے آخر سے حروف ایک ایک کرکے نکالتےجائیں یہاں تک کہ ایک حرف ایسا آجائے کہ جسے حذف کرنے سے یا تو لفظ بے معنی ہوجائے یا پھر کسی اور لفظ میں تبدیل ہوجائے ۔ یہی حرف درحقیقت آخری حرفِ اصلی ہے اور اس سے پہلے حذف کئے جانیوالے تمام حروف زائد ہیں ۔ مثلاً دوستوں ، دوستاں ، دوستی ، دوستیاں میں اصلی لفظ یا مصدر دوست ہے ۔ اس میں سے اگر " ت " کو حذف کیا جائے تو لفظ بے معنی ہوجاتا ہے ۔ یاری ، یاریاں ، یاریوں اور یاراں میں اصل لفظ یار ہے ۔ اگر اس میں سے " ر" کو نکال دیا جائے تو ایک نیا لفظ بن جاتا ہے جس کے معنی بالکل مختلف ہیں ۔ چنانچہ "ر" آخری حرفِ اصلی ہے ۔ حروف اصلی اور زوائد کے اس فرق کو یاد رکھنا کیوں ضروری ہے اس کی تفصیل آگے آرہی ہے ۔ اردو زبان کے تقریبا تمام افعال چونکہ ہندی سے آئے ہیں اس لئے انکو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے ۔ مثلا کھانا ، کھایا ، کھائے ، کھائی ، کھاؤ ، کھاتا ، کھاتی، کھاتے ایک ہی فعل کی متعدد لفظی صورتیں ہیں ۔ اردو میں ہر فعل کا مصدر اسکے صیغہء امر یعنی حکمیہ فعل کو مانا گیا ہے ۔ چنانچہ مندرجہ بالا مثال میں کھا اصل لفظ ہے اوراس پر حروفِ زائد کا اضافہ کرکے مشتقات بنالئے گئے ہیں ۔ فعل کے مصادر کی دیگر مثالیں جا ، پی ، مر ، بیٹھ ، دیکھ ، سونگھ ، وغیرہ ہیں ۔ نوٹ کیجئے کہ ایسے الفاظ جن کے آخر میں ہائے مختفی ہو ان میں آخری حرفِ اصل ہائے مختفی سے پہلے والے حرف کو مانا گیا ہے ۔ مثلا رفتہ ، سوختہ ، گزشتہ ، آشفتہ وغیرہ میں ”ت“ اور نشانہ ، زمانہ ، فسانہ، ترانہ وغیرہ میں نون آخری حرفِ اصل ہیں ۔
قافیے کی تعریف:
قافیہ شعر کا وہ لفظ ہے کہ جس پر شعر تمام کیا گیا ہو۔ لیکن اگر شعرمیں ردیف موجود ہو تو قافیہ ردیف سے بالکل پہلے اس طرح آتا ہے کہ ردیف اور قافیے کے درمیان کوئی اور لفظ یا کلمہ نہیں ہوتا ۔ عربی شاعری میں ردیف نہیں ہوتی ۔ ردیف اہلِ فارس کی ایجاد ہے اور وہیں سے اردو میں آئی ہے ۔ شعر کیلئے قافیہ ضروری ہے لیکن ردیف اختیاری ہوتی ہے ۔ غزل کی بحر اور قافیہ ردیف ( یعنی زمین) کا تعین مطلع ہی میں ہو جاتا ہے ۔ مطلع کے دونوں مصرعوں کو دیکھنےکے بعد ہی قافیے اور ردیف میں تمیز ممکن ہوسکتی ہے ۔ قافیہ بامعنی لفظ ہوتا ہے لیکن ردیف بامعنی یا بے معنی بھی ہوسکتی ہے ۔
قافیے پرتفصیلی گفتگو کو مزید آگے بڑھانے سے پہلے ضروری ہے کہ اس مقام پر ایک دفعہ اردو الفاظ کی بنیادی ساخت کے بارے میں چند متعلقہ قواعد و ضوابط کا اعادہ کر لیا جائے ۔
۱۔
اردو کے ہر لفظ کا پہلا حرف متحرک اور آخری حرف ساکن ہو تا ہے ۔ مثال کیلئے
کسی بھی لفظ کو دیکھ لیجئے ۔ جس حرف پر زبر ہو اسے مفتوح ، جس پر زیر ہو اسے مکسور
اور جس پر پیش ہو اسے مضموم کہتے ہیں ۔
۲۔ اردو الفاظ کے
آخر میں دو ساکن حروف بھی اکثر آتے ہیں ۔ مثلا طبیب ، حسین ، کمال وغیرہ ۔ شاذو
نادر تین ساکن حروف بھی لفظ کے آخر میں آسکتے ہیں ۔ مثلا دوست ، کاشت ، گوشت وغیرہ ۔ لیکن ان الفاظ کی تعداد اردو میں نہ ہونے کے
برابر ہے اور اکثر ان کے قافیے ممکن نہیں ۔
۳۔
الف ساکن سے پہلے والا حرف ہمیشہ مفتوح ہوتا ہے یعنی اس پر زبر ہوتی ہے
۔ مثلا کاروبار ، خمار ، کمھار وغیرہ ۔ زبر کے علا اور کوئی حرکت ممکن ہی نہیں ۔
۴ ۔ " ی" ساکن کے ماقبل پر اگر زیر
کی حرکت لمبی ہو اور اگلے حرف سے پہلے پوری ہوجائے تو اسے یائے معروف کہتے ہیں ۔
مثلا کھیر ، اسیر ، ضمیر وغیرہ ۔ لیکن زیر
کی حرکت ادھوری ہو تو اسے یائے مجہول کہتے ہیں ۔ مثلا دیر ، شیر ، بیر وغیرہ
۔ یائے مجہول دراصل زیر اور زبر کے درمیان
کی آواز ہوتی ہے ۔
۵ ۔
" ے" ہمیشہ لفظ کے آخر میں آتا ہے اور اس سے پہلے والا حرف مفتوح
ہوتا ہے ۔ مثلا فرشتے ، خطبے ، لکھے ، بولے وغیرہ ۔
۶ ۔
واؤ ساکن سے پہلے والا حرف اگر مضموم ہو اور آواز لمبی اور کھنچ کر آئے تو
اسے واؤ معروف کہتے ہیں مثلا نور ، مشہور ، غرور وغیرہ ۔ لیکن اگر آواز پوری طرح کھنچ کر نہ آئے تو
اسے واؤ مجہول کہتے ہیں مثلا شور ، جور ، چور وغیرہ ۔
۷ ۔ مرکب ہندی حروف مثلا بھ ، پھ ، تھ ، ٹھ ، ڈھ ، گھ وغیرہ ایک حرف کے برابر شمار ہوتے ہیں ۔ دو علیحدہ حروف نہیں سمجھے جاتے ۔
قافیے کی ساخت:
قافیے ہم آواز ہوتے ہیں ۔ غم ، نم اور کم ہم قافیہ ہیں ۔ ان میں آخری حرف لام مشترک ہے اور اس سے پہلے والے حرف پر زبر کی حرکت بھی مشترک ہے ۔ اس آخری مشترک حرف کو اصطلاح میں حرفِ روی کہتے ہیں ۔ حرفِ روی اور اس سے ماقبل حرکت کی تکرار ہرقافیے میں ضروری ہے ۔ یہ قافیے کی سادہ ترین صورت ہے ۔ حرفِ روی ہی دراصل بنیادی حرفِ قافیہ ہے ۔ یہ تمام قوافی کو ہم آواز بناتا ہے ۔ چنانچہ بدن ، چمن اور جلن کا قافیہ قدم نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے آخر میں حرفِ روی " ن" موجود نہیں ۔ اسی طرح امن بھی قافیہ نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ یہاں نون تو موجود ہے لیکن اس سے ماقبل زبر کی حرکت موجود نہیں ۔
قافیے کی ایک اور مثال دیکھئے ۔ میر ، پیر ، تیر ۔ یہاں حرفِ روی "ر" ہے اور اس سے پہلے یائے ساکن اور یائے ساکن کے ماقبل پر حرکتِ زیر موجود ہے ۔ چنانچہ تمام قوافی میں ان تینوں شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے ۔ اس لئے غیر اور دیر یہاں قوافی نہیں بن سکتے کیونکہ حرف روی اور یائے ساکن تو موجود ہیں لیکن ماقبل پر زیر کی حرکت موجود نہیں ۔
اوپر کی مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قافیہ دراصل ایک مجموعہء حروف اور انکی حرکات و سکنات کا نام ہے ۔ ان حروف کی ترتیب کو سمجھنا ، انکی حرکات و سکنات کو پرکھنا اور ان کے قواعد و ضوابط کو بیان کرنا علمِ قافیہ کا بنیادی مقصد ہے ۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ تقطیع کے تمام اصول قافیے پر بھی اسی طرح لاگو ہوتے ہیں جس طرح شعر کے بقیہ الفاظ پر ۔ چنانچہ باب کا قافیہ خواب درست ہے ۔ اس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ قافیہ ملفوظی ہوتا ہے مکتوبی نہیں ۔
حرفِ روی کی تعریف : حرفِ روی قافیے کا آخری حرفِ اصل ہوتا ہے یا وہ حرف جو بمنزلہ آخری حرفِ اصل لیا جاسکے ۔ مثلا ساحل ، کامل ، جاہل میں لام اور نشانہ ، زمانہ ، فسانہ، ترانہ وغیرہ میں نون ۔ چونکہ ہر اردو لفظ کا آخری حرف ساکن ہوتا ہے اس لئے حرفِ روی بیشترساکن ہوتا ہے ۔ لیکن ایک صورت میں حرفِ روی متحرک بھی ہوسکتا ہے جس کا مفصل بیان آگے آرہا ہے ۔ ساکن حرفِ روی کو روی مقید اور متحرک حرفِ روی کو روی مطلق کہتے ہیں ۔
(الف) حرفِ روی مقید کے اصول:
چونکہ مقید حرفِ روی ساکن ہوتا ہے اس لئے اس سے پہلے قافیے میں یا تو کوئی متحرک حرف ہوگا یا پھر ایک اور ساکن حرف۔
روی مقید سے پہلے متحرک حرف کے اصول:
اگر حرفِ روی سے ماقبل حرف متحرک ہو تو اس کی حرکت قافیے کا حصہ ہوتی ہے اور اس حرکت کی تکرار ہر قافیے میں ضروری ہے ۔ اصطلاح میں اس حرکت کو حرکتِ توجیہہ کہتے ہیں ۔ چنانچہ بدن ، چبھن اور چمن کا قافیہ امن نہیں ہوسکتا کیونکہ امن میں میم ساکن ہے جبکہ یہاں حرکتِ توجیہہ زبر کا ہونا لازمی ہے ۔ علم ِ قافیہ کے مطابق حرکتِ توجیہہ میں اختلاف یا تغیر روا نہیں ہے ۔ نمعلوم کیوں بعض کتب میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ زیر ، زبر یا پیش میں سے کوئی بھی حرکت لانا جائز ہے ۔ بہ الفاظِ دیگر برتن اور گردن کے قافیے مومن اور ناخن ہوسکتے ہیں ۔ حرکتِ توجیہہ میں تغیر کی یہ اجازت قافیے کی اردو کتب میں بغیر کسی دلیل کےمذکور ہے ۔ لیکن اردو شاعری میں اس اجازت کا استعمال شاذونادر ہی دیکھنے میں آیا ہے ۔ مجھے کوشش کے باوجود اساتذہ کی شاعری میں اس کی مثالیں نہ مل سکیں ۔ چونکہ قوافی کی بنیادی خصوصیت انکا ہم آواز ہونا ہے اس لئے عام طور پر کوئی مبتدی بھی غم ، نم اور کم کا قافیہ دُم اور جِم کو بنانے کے بارے میں نہیں سوچتا ۔ چنانچہ راقم الحروف کو اس اصول کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا ۔ میری رائے میں الجھن سے بچنے کیلئے اس استثنا کوقافیے کے اصولوں سے خارج ہی کردینا چاہئے ۔ اور سیدھا سادہ اصول یہ بنانا چاہئے کہ حرفِ روی سے ماقبل متحرک حرف کی حرکت قافیے کا حصہ ہوتی ہے اور اس حرکت کو جوں کا توں بغیر کسی تغیر کے ہر قافیے میں لانا لازمی ہے ۔
اگر
حرفِ روی سے قبل متحرک حرف مطلع کے دونوں مصرعوں میں مشترک ہو تو بقیہ اشعار میں
روی کے ساتھ ساتھ اس حرف کی پابندی ضروری نہیں ہے صرف حرکتِ توجیہہ کی پابندی لازم
ہے ۔ مثلا اگر مطلع میں قوافی ہوا اور دوا
ہوں تو دیگر قافیے سوا ، روا اور توا کے
علاوہ مزا ، دغا اور فضا بھی ہوسکتے ہیں ۔
مثال کے طور پر مرزا غالب کی غزل دیکھئے :
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہو
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
اب کچھ اور قافیے دیکھئے ۔ کاجل ، پاگل ، بادل ، اور ضامن ، باطن ، خازن ۔ ان قافیوں میں لام اور نون بالترتیب حروفِ روی ہیں ۔ لیکن ان قوافی کے مشاہدے سے ایک اور بات سامنے آتی ہے اور وہ یہ کہ ہر قافیے میں حرفِ روی سے پہلے ایک متحرک حرف اور اس سے پہلے ایک الف ساکن موجود ہے ۔ قافیے کی اس ساخت میں الف ساکن کو الف تاسیس اور اس کے بعد آنے والے متحرک حرف کو دخیل کہتے ہیں ۔ اور یہ بات بھی واضح نظر آرہی ہے کہِ دخیل کی حرکت تبدیل نہیں ہوتی ۔ کاجل ۔ بادل اور پاگل میں دخیل مفتوح رہتا ہے ۔ ان الفاظ کے قافیے عادل اور قاتل نہیں ہوسکتے ۔ ضامن ، باطن ، خازن میں دخیل مکسور ہے چنانچہ انکا قافیہ دامن نہیں ہوسکتا ۔ دخیل کی حرکت کو اصطلاح میں اشباع کہتے ہیں ۔ اشباع کی پابندی لازمی ہے ۔ جبکہ الف تاسیس کے ماقبل حرکت کو رس کہتے ہیں جو ہمیشہ زبر ہوتی ہے ۔ نوٹ کیجئے کہ اثر ، اگر اور اُدھر کے قافیوں میں موجود الف حرفِ تاسیس نہیں ہے کیونکہ یہ الف ساکن نہیں متحرک ہے ۔ یہ بھی نوٹ کیجئے کہ الف تاسیس اور دخیل ہمیشہ ساتھ آتے ہیں ۔
اگر مطلع میں دونوں قوافی الف تاسیس کے ساتھ ہوں تو بقیہ اشعار میں الف تاسیس کی پابندی ضروری ہے یا نہیں اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ بعض کے نزدیک پابندی لازمی نہیں لیکن مستحسن ہے کیونکہ اس سے غزل کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔ بعض اسے لازم کہتے ہیں ۔ اگر پابندی کی جائے تو ایسے قافیے کو قافیہ موسیہ کہتے ہیں اور غزل کے محاسن میں آتا ہے۔ اس کے برعکس اگر مطلع میں دونوں قوافی کا حرفِ دخیل ایک ہی ہو تو پھر دخیل کی پابندی بقیہ تمام اشعار میں ضروری ہے ۔ مثلا مطلع میں عامل اور کامل قوافی ہوں تو بعد کے اشعار میں صرف شامل اور حامل کی طرح کےقوافی ہی ممکن ہیں کہ جن کا دخیل حرف میم ہو ۔ عادل ، جاہل ، قابل وغیرہ جائز نہیں ۔ ورنہ ایطائے خفی کا عیب پیدا ہوجائے گا۔
اصول: اگر حرفِ روی سے قبل متحرک حرف موجود ہو تو ہر قافیہ میں اسکی حرکت یعنی حرکتِ توجیہہ کی پابندی لازمی ہے ۔ ورنہ قافیہ نہیں بنے گا ۔ اگر دخیل موجود ہو تو اشباع کی پابندی لازم ہے ۔
(ب) روی مقید سے قبل ساکن حرف کے قواعد:
حرفِ روی سے قبل آنے والا ساکن حرف اگر حروفِ علت ( الف ، ی ، واو) میں سے کوئی حرف ہوتو اسے اصطلاح میں ردف کہتے ہیں ۔ مثلا دار ، بیمار ، تیر ، ضمیر ، نور ، سرور وغیرہ ۔ حرفِ ردف کی تکرار ہر قافیے میں لازمی ہے ۔ حرفِ ردف سے ماقبل کی حرکت کو اصطلاح میں حذو کہتے ہیں ۔ حرکتِ حذو کی پابندی بھی لازمی ہے ۔ یعنی یائے مجہول اور یائے معروف کو ہم قافیہ نہیں کیا جاسکتا ۔ بہ الفاظِ دیگر تیر اور کھیر کا قافیہ سیر اور دیر نہیں ہوسکتے ۔ یہی اصول واؤ معروف اور واؤ مجہول کےلیئے بھی ہے ۔ یعنی نور اور سرور کا قافیہ شور اور جور لانا جائز نہیں ۔ فارسی میں بعض دفعہ حرفِ ردف کے بعد ایک اور ساکن حرف آتا ہے جسے ردف زائد کہتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے لفظ کے آخر میں تین ساکن حروف کا اجتماع ہوجاتا ہے ۔ جیسے دوست ، ساخت ، نیست وغیرہ ۔ یہ بات پہلے ہی بیان کی جاچکی ہے کہ اردو میں ایسے الفاظ کی تعداد انتہائی محدود ہے اور انکے قوافی ممکن نہیں ۔ اس لئے ردف زائد کو قافیے کی بحث سے بالکل خارج ہی کردینا چاہیئے ۔ لیکن یہاں صرف حوالے کے طور پر یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ جو حروف زائد ردف کے طور پر آسکتے ہیں انکی تعداد چھہ ہے ۔ خ ، ر ، س، ش، ف اور ن ۔ ان الفاظ کو یاد رکھنے کیلئے بعض مصنفین نے " شرف سخن " کا لفظ گھڑا ہے ۔ ردف کی طرح ردف زائد کی تکرار بھی قافیے میں لازم ہے ۔
حرفِ علت کےعلاوہ کوئی اور ساکن حرف اگر روی سے پہلے آئے تو اسے حرفِ قید کہتے ہیں ۔ مثلا صبر ، تخت ، بزم ، دشت وغیرہ ۔ ان الفاظ میں ب ، خ ، ز اور ش بالترتیب حروفِ قید ہیں ۔ قافیے میں حرفِ قید کی تکرارلازم ہے ۔ صرف دس حروف ایسے ہیں جو حرف قید بن سکتے ہیں ۔ ب ، خ ، ر ، ز ، س ، ش ، غ ، ف ، ن اور ہ ۔ ایسے الفاظ جن میں یہ حروف قید آتے ہوں اردو میں فارسی کی نسبت بہت کم ہیں اور ان کے قوافی بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں ۔ انہیں یاد رکھنے کیلئے ایک جملہ " سہ شب فرخ نغز " گھڑا گیا ہے لیکن راقم کی رائے میں اسے یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ صرف یہ اصول یاد رکھئے کہ حرفِ روی مقید سے قبل اگر ساکن حرف ہو تو اسکی تکرار لازم ہے خواہ وہ حرفِ ردف ہو یا حرفِ قید ۔ حرفِ ردف یا حرفِ قید کےماقبل حرف کی حرکت کو اصطلاح میں حذو کہتے ہیں اور حرکتِ حذو کی پابندی بھی بغیر کسی تغیر کے لازمی ہے ۔ لیکن اگر حرفِ قید " ہ "ہو تو اسے" ح " سے بدلا جاسکتا ہے کیونکہ دونوں حروف کے مخارج قریب ہیں ۔ یعنی نہر اور شہر کا قافیہ بحر جائز ہے ۔ سعدی اور فردوسی نے اپنے اشعار میں ایسا کیا ہے ۔
(ب) حرفِ روی مطلق کے اصول:
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا حرفِ روی لفظِ قافیہ کا آخری حرفِ اصل ہوتا ہے ۔ جب روی کے بعد کسی زائد حرف کا اضافہ کیا جائے تو روی متحرک ہوجاتا ہے ۔ اسے روی مطلق کہتے ہیں ۔ مثلا یاری ، ماری ، عاری اور ہمسری ، دفتری ، افسری میں حرفِ روی "ر" ہے اور حرفِ زائد "ی " کے آنے سے متحرک ہو گیا ہے ۔ چونکہ یہ حرفِ زائد حرفِ روی سے متصل ہے اسلئے اصطلاح میں اس زائد کو حرفِ وصل یا حرفِ وصلی کہتے ہیں ۔ روی پر آنے والی حرکت کو مجریٰ کہتے ہیں ۔ قافیے میں روی کیساتھ حرفِ وصل کی تکرار بھی لازمی ہے اور مجریٰ کی پابندی بھی بغیر کسی تغیر کے لازمی ہے ۔ عاری اور تیاری کا قافیہ بالی نہیں ہوسکتا کیونکہ حرفِ روی "ر" کی تکرار موجود نہیں ۔
اگر وصل کے بعد ایک
اور زائد حرف آئے تو اسے اصطلاح میں خروج
کہتے ہیں ۔ مثلا کھانا اور جانا میں دوسرا
الف ۔ ان مثالوں میں کھا اور جا اصلی
الفاط ہیں ۔ پہلا الف روی ، نون حرفِ وصل اور دوسرا الف خروج ۔ قافیے میں خروج کی تکرار بھی روی اور وصل کی
طرح لازم ہے ۔ چنانچہ کھانا اورجانا کا قافیہ اچھا اور گورا نہیں ہوسکتے کہ ان میں روی اور وصل کی تکرار
موجود نہیں ہے ۔ اگر خروج کے بعد ایک اور زائد حرف آئے تو اسے حرفِ مزید کہتے ہیں
۔ مثلا تیاریاں اور بیماریاں میں نون غنہ
۔ حرفِ مزید کی تکرار بھی ہر قافیے میں لازمی ہے ۔ چنانچہ تیاریاں اور بیماریاں کے قافیے آریا اور
جاریا نہیں ہوسکتے کیونکہ ان میں حرفِ مزید نون غنہ کی تکرار موجود نہیں ۔ روی کے
بعد آنیوالے ہر زائد حرف کی حرکت کو حرکتِ نفاذ کہتے ہیں ۔ قافیے میں نفاذ کی
پابندی بھی بغیر کسی تغیر کے لازمی ہے ۔
بعض فارسی الفاظ میں حرفِ مزید کے بعد ایک اور زائد حرف بھی آتا ہے جسے
اصطلاح میں حرفِ نائرہ کہتے ہیں لیکن اردو میں ایسا کوئی لفظ ممکن نہیں جس میں روی
کے بعد متواتر چار زائد حروف آتے ہوں ۔ چنانچہ حرفِ نائرہ کا اطلاق اردو شاعری پر
نہیں ہوتا ۔ اور اسے علمِ قافیہ کی بحث سے خارج کردینا چاہئے ۔
خلاصہء کلام یہ ہے کہ حرفِ روی کے بعد جب کوئی زائد حرف آئے توحرفِ روی ساکن سے متحرک ہوجاتا ہے ۔ روی کے بعد ایک ، دو یا تین زائد حروف آسکتے ہیں ۔ روی کی ساتھ ساتھ تمام زائد حروف کی تکرار اور ان پر موجود حرکات کی پابندی بغیر کسی تغیر کے ہر قافیہ میں لازم ہے ۔ بہ الفاظِ دیگر حرفِ روی کے بعد آنیوالے حروفِ زائد عملی طور پر ردیف کا حصہ بن جاتے ہیں اور ان کی تکرار ہر قافیے میں ردیف کی طرح لازمی ہوجاتی ہے۔ مثلا غزل کی زمین اگر تیاریاں کیا کیا اور بیماریاں کیا کیا ہے تو "ریاں" قافیے کا حصہ ہونے کے باوجود ردیف میں شامل سمجھی جاتی ہے ۔ چنانچہ ہر شعر کے آخر میں "ریاں کیا کیا" کی تکرار لازم ٹھہرے گی ۔
اشباع اور حذو پر روی مطلق کا اثر:
جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے دخیل کی حرکت کو اشباع اور ردف اور قید کے ماقبل کی حرکت کو حذو کہتے ہیں اور ان حرکات کی پابندی بغیر کسی تغیر کے لازم ہے ۔ لیکن اگر حرف ِ روی متحرک ہوجائے تو ان حرکات میں تغیر جائز ہے ۔ مثلا روی مقید کی صورت میں شاطِر کا قافیہ برابر نہیں لایا جاسکتا لیکن روی متحرک کرنے کے بعد شاطِری کا قافیہ برابری جائز ہے ۔ اسی طرح آہستہ کا قافیہ وابَستہ جائز ہے ۔ یہاں حرفِ قید سین سے ماقبل زبر اور زیر کا تغیر موجود ہے لیکن روی کے متحرک ہونے کے باعث جائز ہوگیا ۔
اوپر کی تمام گفتگو سے معلوم ہوا کہ قافیہ دراصل ایک مجموعہء حروف اور انکی حرکات و سکنات کا نام ہے جن میں بنیادی حرفِ قافیہ حرفِ روی ہے ۔ ایسا حرفِ روی جسکے ساتھ کوئی اور حرفِ قافیہ کی پابندی نہ ہو روی مجرد کہلاتا ہے اور ایسا قافیہ بہت کشادہ ہوتا ہے ۔ جیسے پر ، مر ، سر ، کر اور دعا ، مزا ، ادا ، ہوا وغیرہ ۔ ایسا حرفِ روی جس کے ساتھ کسی دوسرے حرفِ قافیہ یعنی دخیل ، قید ، ردف ، وصل وغیرہ کی پابندی بھی ضروری ہو تو وہ روی مع الغیر کہلاتا ہے ۔ منطقی طور پر جتنے زیادہ حروف اور حرکات کی پابندی ہوگی اتنا ہی قافیہ تنگ ہوتا جائےگا ۔
مطلع میں قوافی کی بحث:
یہ
بات اوپر بتادی گئی ہے کہ حرفِ روی مطلع میں طے ہوجاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ
آگے آنیوالے قافیوں میں کن حروف کی تکرار اور کن حرکات و سکنات کی پابندی لازمی ہے
ان کا تعین مطلع میں استعمال کئے گئے دو قافیوں سے کیا جاتا ہے ۔
۱۔ اردو کے ایسے الفاظ جو ہائے ہوز پر ختم ہوتے ہیں جیسے عمدہ ، شیشہ ، پیشہ وغیرہ انکو ایسے الفاظ کا ہم قافیہ مان لیا گیا ہے جو الف پر ختم ہوتے ہیں جیسے دنیا ، بھالا ، پیدا وغیرہ ۔ اس صورت میں عمدہ ، شیشہ وغیرہ کی "ہ" کو الف سے بدلنے کی ضرورت نہیں ۔ ان الفاظ کا املا بدستور رکھا جائے گا ۔
۲ ۔ اکثر اوقات قافیے میں کشادگی پیدا کرنے کیلئے مطلع میں دو قوافی ایسے لائے جاتے ہیں کہ ان کی مدد سے حرفِ اصلی کے بجائے حرفِ زائد کو روی کا قائم مقام بنادیا جائے ۔ مثلا ایک مصرع میں اگر قافیہ سراپا ہو تو دوسرے مصرع میں بھٹکنا لا کرآخری الف کو حرفِ روی بنادیا جاتا ہے ۔ اگرچہ سراپا کا حرفِ روی الف ہے اور بھٹکنا کا روی کاف ہے اور بظاہر حرفِ روی کا اختلاف نظر آرہا ہے ۔ لیکن یہاں سراپا کے روی یعنی آخری الف کا سہارا لیکر بھٹکنا کے الف کو حرفِ اصل کا قائم مقام بنادیا گیا ہے ۔ چنانچہ اس طرح مطلع میں حرف روی الف طے ہوگیا اور چونکہ یہ روی مجرد ہے اس لئے اب آگے کے اشعار میں قافیہ کشادہ ہوگیا اور بلاوا ، اشارہ ، اٹھایا ، کھلایا قسم کے تمام قافیے ممکن ہوگئے ۔ فراز کے اس شعر کو دیکھئے ۔
دوست
ہوکر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والے
یہاں نبھانے کا حرفِ روی الف ہے لیکن ”زمانے“ کے اصلی نون کی مدد سے نبھانے کے نون کو حرفِ روی بناکر قافیہ کشاد ہ کرلیا گیا ہے ۔ تو اب اس مطلع میں نون حرفِ روی اور "ے" حرفِ وصل ہے ۔ اگر نبھانے کے ساتھ کسی دوسرے فعل مثلا بٹھانے یا کمانے کا قافیہ لایا جاتا تو قافیہ تنگ ہو جاتا اور حرفِ روی "الف" ہوجاتا اور "نے" حروفِ زائد بن کر ردیف کا حصہ بن جاتا ۔ پھر ہر قافیے میں اس کی پابندی لازم ہوجاتی ۔ لیکن زمانے کے حیلے کی وجہ سے بقیہ غزل میں افعال اور اسماء دونوں کو قافیہ بنانا ممکن ہوگیا ۔ مثلا نشانے ، بہانے ، ترانے ، ملانے ، جمانے ، ڈرانے وغیرہ ۔ اس کے برعکس ایک دوسری مثال دیکھئے ۔ نوشی گیلانی کا شعر ہے ۔
کچھ
بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
اس
مطلع میں گزر اور پگھل اصل الفاظ یا مصادر ہیں اور ہم قافیہ نہیں ۔ یہ بڑا عیب ہے
کیونکہ اس مطلع میں قافیہ سرے سے طے ہی نہیں ہوا ۔ چنانچہ اس کے بعدآنیوالے تمام
اشعار کے قافیے بے اعتبار ہونگے ۔ اس کے برعکس اگر شاعرہ کچھ اس طرح کے قافیے
استعمال کرتی جیسے :
فیصلے
کے لمحے میں دیر کتنی لگتی ہے
عیوبِ قافیہ و ردیف کا بیان :
ایطا
: قافیے کا سب سے واضح عیب ایطا ہے جسے
قافیہ شائگاں بھی کہتے ہیں ۔ یہ عیب صرف مطلع ہی میں واقع ہوسکتا ہے ۔ ایطا ئے جلی میں قافیے دو ٹکڑوں والے لفظ سے اس
طرح بنے ہوتے ہیں کہ اگر آخر کا ٹکڑا نکال دیں تو باقی بچنے والے کلمے ہم قافیہ
نہیں ہوتے ۔ مثلا مطلع میں ستم گر اور جفاگر یا مسلمین اور مومنین کے قافیے لانا ۔
اگر ان قافیوں میں سے "گر" اور "ین" کے ٹکڑے نکال دیں تو باقی
بچنے والے کلمے ستم اور جفا ، مسلم اور مومن ہم قافیہ نہیں ہیں ۔ ایطا کی ایک پہچان یہ ہے کہ آخر کے مشترکہ حروف
کو اگر نکال دیا جائے تو بچنے والے کلمے بامعنی الفاظ ہوتے ہیں اور ہم قافیہ نہیں
ہوتے ۔ چنانچہ بیماریاں اور تیاریاں کے قافیے مطلع میں لانا ایطائے جلی نہیں ہے
کیونکہ "یاں" کے حروفِ زائد نکالنے کے بعد بچنے والے حروف بامعنی اور ہم
قافیہ ہیں ۔ اسی طرح کھائیے اور جائیے کی مثال بھی ایطائے جلی نہیں ۔
ایطائے خفی تب واقع ہوتا ہے جب مطلع میں دو قافیے ایسے لائے جائیں کہ جن میں ردف سے قبل کا ایک حرف مشترک ہو مثلا انسان اور آسان ۔ اس میں "سان" کی تکرار سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے بقیہ غزل کے ہر قافیے میں اسکا آنا ضروری ہو ۔ جبکہ ایسی کوئی بات نہیں بلکہ لوبان ، ایمان اور جزدان کے قوافی لائے جاسکتے ہیں ۔ ایطائے خفی کوئی بڑا عیب نہیں ۔ یہ یاد رہے کہ ایطا صرف مطلع ہی میں واقع ہوتا ہے ۔ اگر محولہ بالا قافیے غزل کے دیگر اشعار میں لائے جائیں تو کوئی عیب نہیں ۔
تقابل ردیفین یا اجتماع ِ ردیفین : پہلے مصرع کے آخر میں ایسا لفظ نہیں لانا چاہیئے کہ جو دوسرے مصرع کے آخر میں آنیوالی ردیف کے آخری لفظ سے ہم قافیہ ہو ۔ یہ اتنا بڑا عیب نہیں لیکن اس سے بچنا احسن ہے اور اچھے شعراٗ اس کا خیال رکھتے ہیں ۔
صوتی قافیے کی بحث:
حرفِ
قید میں "ہ" کو "ح"
سے بدلنے کی مثال اوپر دی جاچکی ہے ۔ لیکن صوتی قافیے کی بحث حرفِ روی کو
بدلنے سے متعلق ہے ۔ جیسا کہ اوپر گذر چکا حرفِ روی کی تکرار کسی تغیر کے بغیر
کرنا قافیے کی لازمی شرط ہے ۔ لیکن دوسری طرف اردو میں کچھ حروف ایسے ہیں کہ جن کے
مخارج عربی اور فارسی دنیا میں تو مختلف ہیں لیکن اردو بولنے والے عام بول چال میں
ان مخارج کی پابندی نہیں کرتے اور انہیں ایک ہی مخرج سے ادا کرتے ہیں ۔ جیسے ت اور
ط یا
ث ، س اور ص یا ذ، ز، ض اور ظ ۔
چنانچہ بعض لوگوں کی طرف سے یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ آفات کا قافیہ
محتاط یا لذیذ کا قافیہ غلیظ کیوں نہیں ہوسکتا ۔ بہت سے شعراء اور ادیب ان صوتی
قافیوں کو روا سمجھتے ہیں اور بہت سے اس بات سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ میری
ناچیز رائے میں قافیے میں جتنی کشادگی پیدا کی جاسکے بہتر ہے تاکہ اظہار کی راہ
میں حائل رکاوٹوں کو کم سے کم کیا جاسکے ۔
اس بحث کا فیصلہ اب آپکے اور وقت کے ہاتھ میں ہے۔
x
x